اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور اسے اپنی مخلوق کے بیچ بھی حرام قرار دیا ہے، لہذا کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔ سارے انسان حق کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہيں، سوائے اس کے جسے اللہ حق کا راستہ دکھائے اور حق کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ جو اللہ سے حق کے راستے پر چلنے کی توفیق مانگتا ہے، اسے اللہ یہ توفیق عطا کرتا ہے۔ سارے انسان اپنی تمام ضرورتوں کے لیے اللہ کے محتاج ہیں اور جو اللہ سے ضرورتیں پوری کرنے کی دعا کرتا ہے، اللہ اس کی ضرورتیں پوری کر دیتا ہے۔ سارے انسان رات دن گناہ کرتے ہيں اور اللہ ان کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور بخشش مانگنے پر بخش دیتا ہے۔ انسان نہ تو اللہ کو ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہيں۔ اگر سارے انسان ایک متقی شخص کی طرح ہو جائیں، تو ان کے اس تقوے سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر سارے انسان کسی گنہگار ترین شخص کے جیسے ہو جائیں، تو ان کے اس گناہ میں ملوث ہو جانے سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی کمی نہيں ہوگی۔ کیوں کہ انسان کمزور اور ہر حال اور ہر زمان و مکان میں اللہ کے محتاج ہیں، جب کہ اللہ غنی اور بے نیاز ہے۔ اگر سارے انسان اور جن، پہلے اور بعد کے لوگ کسی ایک مقام پر کھڑے ہوکر اللہ سے اپنی اپنی مرادیں مانگنے لگیں اور اللہ سب کی جھولیاں بھر دے، تو اس سے اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح سمندر میں ایک سوئی ڈال کر نکال لینے سے سمندر کا پانی گھٹتا نہیں ہے۔ ایسا اس لیے کہ اللہ بڑا ہی غنی ہے۔ اللہ بندوں کے اعمال کی حفاظت کرتاہے ، انھیں ان کے لئے اعمال کو شمار کرتا ہے اور قیامت کے دن انھیں ان کا پورا پورا بدلہ بھی دے گا۔ ایسے میں جو اپنے اعمال کا بدلہ اچھا پائے، وہ اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے نیک کام کرنے کی توفیق عطا کی اور جو اپنے اعمال کا بدلہ اس سے الگ پائے، وہ صرف اور صرف اپنے نفس کو کوسے، جو اسے برائی کا حکم دیتا تھا اور جس نے اسے ناکامی اور نامرادی سے دوچار کیا۔