جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو داعی اور معلم کی حیثیت سے یمن کی جانب بھیجا، تو ان سے کہا کہ ان کو ایک عیسائی قوم کا سامنا کرنا ہے، تاکہ وہ اس کے لیے تیار رہيں اور اس کے بعد بتایا کہ ان کو دعوت کے کام کا آغاز کرتے وقت اہم ترین سے اہم کی طرف رخ کرنے کے قاعدے کا دھیان رکھنا چاہیے۔ چنانچہ سب سے پہلے عقیدے کی اصلاح کی دعوت دینی چاہیے یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اسی گواہی کے ذریعے وہ اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جب وہ یہ گواہی دے دیں، تو ان کو نماز قائم کرنے کا حکم دیں، کیوں کہ نماز توحید کے بعد سب سے بڑا فریضہ ہے۔ جب نماز قائم کر لیں، تو اس قوم کے مال داروں کو حکم دیں کہ اپنے فقیروں کو اپنے اموال کی زکاۃ دیں۔ اس کے بعد ان کو افضل ترین مال لینے سے منع کیا، کیوں کہ (زکاۃ میں) درمیانے قسم کا مال لینا ہی واجب ہوتا ہے۔ پھر ان کو ظلم سے بچنے کی وصیت کی، تاکہ مظلوم کی بد دعا کا شکار نہ ہونا پڑے، کیوں کہ مظلوم کی بد دعا قبولیت سے سرفراز ہو جاتی ہے۔