اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس حدیث میں حرام كرده غیبت کی حقیقت بیان فرما رہے ہیں۔ دراصل غیبت نام ہے کسی مسلمان کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کرنے کا، جو اسے پسند نہ ہو۔ چاہے کہی گئی بات کا تعلق اس کے جسمانی بناوٹ سے ہو یا عادت و اخلاق سے۔ جیسے کسی کے بارے میں بھینگا، دھوکے باز اور جھوٹا وغیرہ ایسی باتیں کہنا، جن سے مذمت ہوتی ہو۔ چاہے وہ بات اس کے اندر موجود ہی کیوں نہ ہو۔ اگر موجود نہ ہو، تو یہ بہتان یعنی الزام تراشی ہے، جو کہ غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے۔