عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو خطبۂ حاجت سکھایا۔ دراصل خطبۂ حاجت سے مراد وہ کلمات ہیں، جو خطبوں اور ضروری کاموں کے آغاز کے وقت کہے جاتے ہیں۔ مثلا خطبۂ جمعہ اور خطبۂ نکاح وغیرہ۔ اس خطبے کے اندر کئی غیر معمولی باتیں موجود ہیں۔ مثلا اللہ کا ہر طرح کی تعریف کا حق دار ہونا، صرف اسی سے مدد اور مغفرت طلب کرنا، گناہوں پر پردہ ڈالنے اور درگزر کرنے کی گزارش کرنا، تمام برائیوں اور نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ میں جانا وغیرہ۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے وہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دے نہیں سکتا۔ پھر اللہ کے ایک ہونے کی گواہی اور اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ساتھ ہی رسالت کی گواہی اور اس بات کا ذکر کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس خطبے کو تین آیتوں کے ساتھ ختم کیا، جن کے اندر اللہ عز و جل سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ کے احکام کی تعمیل کی جائے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے۔ وہ بھی، اللہ کی خوش نودی کے حصول کے لیے۔ ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص یہ کام کر لے گا، اس کے نتیجے میں اس کے اقوال و اعمال درست ہو جائیں گے، اس کے گناہ مٹا دیے جائيں گے اور اسے دنیا میں خوش گوار زندگی اور آخرت میں جنت نصیب ہوگی۔