اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں، جو کہ مکہ سے قریب ایک گاؤں ہے، صبح کی نماز پڑھائی۔ اس دن رات میں بارش ہوئی تھی۔ جب سلام پھیر چکے اور نماز سے فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے ربنے کیا فرمایا؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا کہ بارش کے وقت لوگوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ایک وہ لوگ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و رحمت سے ہم پربارش نازل ہوئی اور نزول بارش کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتا ہے، تو ایسا شخص اللہ پر ایمان لانے والا ہے، جو اللہ اس جہان کا خالق اور کائنات میں تصرف کرنے والا ہے۔ ایسا شخص ستارے کا منکر ہے۔ اس کے برخلاف جو یہ کہتا ہے کہ فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی، وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کفر اصغر ہے۔ کیوں کہ اس نے نزول بارش کو ستارے کی طرف منسوب کیا، جب کہ اللہ نے ستارے کو نہ تو بارش کا شرعی سبب بنایا ہے اور نہ تقدیری سبب۔ البتہ جو شخص نزول بارش اور دیگر زمینی حوادث کو ستاروں کے طلوع ہونے یا ٹوٹ کر گرنے جیسی حرکات کی طرف منسوب کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ وہی حقیقی فاعل ہیں، تو وہ شخص کفر اکبر کا مرتکب ہے۔