چونکہ جادو اپنے یقینی مفاسد و برے نتائج یعنی قتل، باطل طریقے سے مال ہتھیانے اور میاں بیوی کے مابین تفریق پیدا کرنے کے اعتبار سے خطرناک ترین معاشرتی بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے، اس کا کچھ حصہ تو کفر ہے اس لیے کہ اس میں شیطانوں سے استعانت اور ان کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے جادو گر کو قتل کر دینے کا حکم دے کر اس کی مکمل طور پر بیخ کنی کے لیے ایک شافی علاج فراہم کر دیا تاکہ معاشرہ اپنے فضائل وپاکیزگی اور راست روی کے ساتھ صحیح ڈگر پر چل سکے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم پر عمل کیا۔