اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے ستاروں اور برجوں، ان کی حرکات، ان کے داخل ہونے اور نکلنے کی کیفیت پر غور کرکے روئے زمین پر مستقبل میں واقع ہونے والے حادثات، جیسے زندگی، موت اور بیماری وغیرہ، پر اثر پڑنے کا علم حاصل کیا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ انسان یہ علم جتنا زیادہ حاصل کرتا جائے گا، وہ جادو کا اتنا زیادہ علم حاصل کرتا جائے گا۔