اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے، جب کہ وہ مرض الموت میں تھے، یہ مطالبہ کیا کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تاکہ آپ اس کی بدولت قیامت کے دن ان کے حق میں سفارش کر سکیں اور ان کے اسلام لانے کی گواہی دے سکیں، لیکن انہوں نے اس خوف سے کلمۂ شہادت پڑھنے سے انکار کر دیا کہ قریش کے لوگ انہیں سب وشتم کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے موت کے خوف سے کمزور پڑ کر اسلام قبول کر لیا! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ایسی بات نہ ہوتی، تو وہ کلمۂ شہادت پڑھ کر آپ کے دل کو خوش کر دیتے اور آپ کی آرزو پوری کردیتے۔ اسی موقع پر اللہ نے وہ آیت نازل فرمائی، جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر قادر نہیں کہ اسلام قبول کرنے کی ہدایت دے سکیں، بلکہ صرف اللہ عز وجل ہی جسے چاہتا ہے اس کی توفیق دیتا ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کی رہنمائی کرتے، ان کے سامنے حق بیان کرتے اور انہیں راہ مستقیم کی دعوت دیتے ہیں۔