اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا: یہ وہ وقت ہوگا، جب لوگوں سے علم اٹھا لیا جا ئے گا۔ اس سے زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا، تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا، جب کہ ہم قرآن پڑھتے اور یاد کرتے ہیں اور اللہ کی قسم ہم قرآن پڑھتے رہیں گے اور اپنی عورتوں اور بیٹوں اور پوتوں کو پڑھاتے رہیں گے؟ اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اے زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے، میں تجھے مدینے کے علما میں شمار کیا کرتا تھا! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ علم اٹھ جانے کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن اٹھ جائے گا، بلکہ علم اٹھنے کا مطلب ہے کہ اس پر عمل کرنا اٹھ جائے گا۔ کیوں کہ یہود ونصاری کے پاس بھی تورات وانجیل موجود ہیں، اس کے باوجود انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا اور نہ وہ ان کتابوں کے مقصد ومراد سے مستفید ہو رہے ہیں اور اپنے اس علم پر عمل کر رہے ہیں۔