اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بتایا ہے کہ وہ وقت قریب آچکا ہے، جب ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ ان میں سے ایک آدمی اپنی مسند پر بیٹھا ہوگا اور جب اس کے پاس اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پہنچے گی، تو وہ کہے گا کہ تمام معاملات میں ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والی چیز قرآن مجید ہے۔ وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے، اسی پر عمل کریں گے اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے، اسی سے اجتناب کریں گے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ہر وہ چیز جسے آپ نے اپنی سنت میں حرام ٹھہرایا یا اس سے منع فرمایا، اس کا بھی حکم وہی ہے، جو حکم قرآن میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کا ہے، کیوں کہ آپ اپنے رب کی جانب سے دین پہنچانے والے کی حیثیت سے آئے تھے۔