عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہيں کہ ایک دن وہ اللہ کے نبی صلی اللہ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے کہا : میں تمھیں کچھ باتیں سکھاؤں گا، جن سے اللہ تمھیں فائدہ پہنچائے گا : اللہ کے احکام کی حفاظت کرکے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہ کر اس طرح اللہ کی حفاظت کرو کہ وہ تم کو نیکی اور اللہ سے قریب کرنے والے کاموں میں مشغول پائے اور نافرمانیوں اور گناہوں میں مشغول نہ پائے۔ اگر تم ایسا کروگے، تو بدلے میں اللہ دنیا و آخرت کی ناخوش گوار چیزوں سے تمھاری حفاظت کرے گا اور تم جہاں بھی جاؤگے، ہر کام میں تمھاری مدد کرے گا۔ جب تم کچھ مانگنا چاہو، تو صرف اللہ سے مانگو۔ کیوں کہ وہی مانگنے والوں کی مرادیں پوری کرتا ہے۔ جب مدد طلب کرنی ہو، تو بس اللہ سے طلب کرو۔ تمھارے دل میں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اگر روئے زمین پر موجود سارے لوگ تمھارا بھلا کرنا چاہيں، تو اتنا ہی کر سکتے ہيں، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے اور اگر دھرتی پر بسنے والے سارے لوگ تمھارا برا کرنا چاہيں، تو اس سے زیادہ نہیں کر سکتے، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے۔ ان ساری باتوں کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی حکمت اور علم کے تقاضے کے مطابق لکھ رکھا ہے اور اللہ کے لکھے ہوئے میں کوئی تبدیلی ممکن نہيں ہے۔