نعمان بن بشیر نے فرمایا کہ عبداللہ بن رواحہ بیمار ہوئے اور مرض کی شدت کی وجہ سے بے ہوش گیے۔ ان کی بہن نے جب ان کو اس حالت میں دیکھا تو سمجھا کہ وہ فوت ہو گیے ہیں تو اس نے ماتم کرتے ہوئے رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا ’واجبلاہ‘ یعنی گویا وہ ان کے لیے ایک پہاڑ کی مانند تھے کہ جس میں پہاڑی راستے پر کسی حادثہ کی صورت میں بچاؤ کے لیے ــــــــــــ پناہ لی جا سکتی ہو۔ اس طرح اُس نے اُن کے مختلف امور کی نسبت اور اُن کے محاسن و خصوصیات کا تذکرہ دورِ جاہلیت کے انداز میں شروع کر دیا۔ جب انھیں اپنی بے ہوشی سے افاقہ ہوا تو انھوں نے اپنی بہن کو بتایا کہ انھیں کیا تکلیف پہنچی تھی۔ انہیں یہ کہا گیا کہ:کیا تو پہاڑ ہے جس سے پناہ لی جاتی ہے؟ کیا تو ایسا ایسا ہے جیسے تیرے اوصاف اور خوبیاں بیان کی جار ہی ہیں؟ اپنی بے ہوشی کی کیفیت کے متعلق اپنی بہن کو بتایا اور یہ انداز دھمکانے اور سخت وعید کرنے کے قبیل سے ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ فوت ہوئے تو انھوں نے ماتم نہ کیا اور لوگوں کو بھی ماتم نہ کرنے کی نصیحت کی۔