عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سےایک جنازہ گزرا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ بيٹھے تھے۔ ان لوگوں نے ميت کے لیے خیر و صلاح کی گواہی دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ليے يہ ثابت ہوگيا۔ پھر ایک دوسرا جنازہ گذرا تو لوگوں نے پہلے جنازہ کی طرح اس کے لیے بھی خیر و صلاح کی گواہی دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ليے يہ ثابت ہو گيا۔ پھر تيسرا جنازہ گذرا تو لوگوں نے اس کے لیے برے حال کی کی گواہی دی۔تو اس پر بھی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ليے يہ ثابت ہو گيا۔ ابو الاسود‘ عمر رضی اللہ عنہ کی بات سمجھ نہ سکے تو اس کے مفہوم کی وضاحت چاہی۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نےکہا کہ ميں نے وہی کہا ہے جو نبی ﷺ نے فرمايا تھا: جس مسلمان کے متعلق چار اچھے اور نیک لوگ یہ گواہی دے ديں کہ وہ اچھے اور نیک لوگوں میں سے ہے تو اس کے ليے جنت واجب ہو گئی۔ صحابہ نے جب آپ ﷺ سے يہ بات سنی تواس شخص کے بارے ميں پوچھا جس کے اچھے ہونے کی تين لوگ گواہی ديں؟ تو آپ ﷺ نے فرمايا: اور اسی طرح اگر اس کے اچھے ہونے کی تين لوگ گواہی دیں تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ صحابہ نے عرض کيا: کیاجس کے لیے دو لوگ گواہی ديں اس کے لیے بھی جنت ہے؟” آپ ﷺ نے فرمايا:“ جس کے ليے دو گواہ ہوں تو اس کےليے بھی جنت ہے۔(راوی کہتے ہیں) اور ہم نے آپ سے اس شخص کے بارے ميں دريافت نہيں کيا جس کے حق ميں صرف ايک آدمی خیر کی گواہی دے‘ کيا وہ جنت ميں داخل ہوگا؟