بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ عليہم اجمعين ايک جنازہ کے پاس سے گذرے تو انہوں نےاس کے حق میں نيکی اور اللہ کی شريعت پر عمل پیرا ہونے کی گواہی دی۔ چناں چہ جب نبی ﷺ نےجنازہ کے بارے ميں ان کی تعريف سنی تو فرمايا: ”واجب ہوگئي“، پھر وہ لوگ ايک دوسرے جنازہ کے پاس سے گذرے تو اس کے برے ہونے کي گواہی دی ،تو آپ ﷺ نے فرمايا:”واجب ہوگئی“،اس پرعمر بن خطاب رضي اللہ عنہ نے پوچھا کہ ان دونوں جگہوں پر ”واجب ہوگئی“ کے کيا معنیٰ ہيں؟ تو آپ ﷺ نے فرمايا: جس شخص کےلیے تم لوگوں نے نيکی، راستی اور ثابت قدمی کی گواہی دی، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس کے لیے تم نےبرائی کی گواہی دی، اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی۔ شايد کہ وہ شخص نفاق وغيرہ ميں مشہور تھا۔ پھر آپ ﷺ نے بتلايا کہ جس شخص کے جنتی يا جہنمی ہونے کے تعلق سے صاحبِ فضل، سچے اور نيکو کار لوگ گواہی دے ديں وہ اسی طرح (جنتي يا جہنمي) ہوتا ہے۔