اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کی رہ نمائی ایسے اعمال کی جانب کی جائے، جو گناہوں کی بخشش، ان کو انسان کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے رجسٹر سے مٹا دیے جانے اور جنت میں اونچے درجات کے سبب بنتے ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا : ضرور رہنمائی فرمائيں۔ آپ نے فرمایا : 1- پریشانی، جیسے ٹھنڈی، پانی کی کمی، جسمانی تکلیف اور پانی گرم ہونے کے باوجود پورے طور پر اور اچھی طرح وضو کرنا۔ 2- مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا۔ اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مسجد سے گھر دور ہو یا مسجد آنا جانا زیادہ ہو۔ حدیث میں آئے ہوئے لفظ "الخُطا" کے معنی دو قدموں کے درمیان کی دوری کے ہيں۔ 3۔ نماز کے وقت کا انتظار کرنا، اس میں دل کا اٹکا رہنا، اس کی تیاری کرنا اور اس کے لیے جماعت کے انتظار میں مسجد کے اندر بیٹھا رہنا۔ ایک نماز پڑھ لینے کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ دراصل یہی اعمال حقیقی مرابطہ (دشمن سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرے داری) ہیں۔ کیوں کہ یہ نفس کی طرف آنے والے شیطانی راستوں کو بند کرتے ہيں، خواہشات کو مغلوب کرتے ہيں اور نفس کو وسوسے قبول کرنے سے روکتے ہيں۔ اس طرح اللہ کا لشکر شیطان کے لشکر پر فتح یاب ہوتا ہے۔