عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث خیر کی خوشخبری اور بھلائی کو متضمن ہے۔ اس قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کی موت کے وقت ان کے کچھ دوست آئے تو یہ بہت زیادہ روئے اور اپنا چہرہ دیوارکی طرف پھیر دیا،وہ موت کی کشمکش میں تھے عنقریب دنیا کو چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ ان کے بیٹے نے کہا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں آپ کو تو نبی ﷺ جنت کی خوشخبری دے چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے پیارے بیٹے! میری تین حالتیں رہی ہیں، پھر انہوں نے تینوں حالتیں ذکر کیں کہ وہ آپ ﷺ سے بہت زیادہ بغض رکھا کرتے تھے، روئے زمین پر ان سے زیادہ کوئی آپ ﷺ سے بغض نہیں رکھتا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ اگر موقع ملے تو وہ آپ ﷺ کو قتل کر دیں، یہ بہت سخت کفر تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کی محبت پیدا کی،تو آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول! اپنا ہاتھ پھیلا دیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرلوں، آپ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن عمرو بن العاص نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، یہ تکبّر کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ آنے والے واقعے کی پختگی کے لیے تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کہا اے اللہ کے رسول! میں ایک شرط پر اسلام قبول کروں گا۔ آپ نے فرمایا:کیا شرط ہے؟ کہا شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سابقہ کفر اور پچھلے تمام گناہوں کو معاف کردے گا۔ اس کی عمرو کو سب سے زیادہ فکر دامن گیر تھی۔ ان کا یہ گمان تھا کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف نہیں کرے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور ہجرت پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کرتی ہے اور حج پچھلے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔ یہ تین چیزیں ہیں۔ جہاں تک اسلام لانے سے گزشتہ گناہوں کا معاف کرنا ہے تو یہ قرآنِ کریم میں مذکور ہے {قل للذين كفروا إن ينتهوا يغفر لهم ما قد سلف وإن يعودوا فقد مضت سنت الأولين}۔ [الأنفال: 38]۔ ترجمہ:’’آپ ان کافروں سے کہہ دیجیے! کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیے جائیں گے اور اگر اپنی وہی عادت رکھیں گے تو (کفار) سابقین کے حق میں قانون نافذ ہو چکا ہے‘‘۔ الهجرة: جب انسان اس علاقے سے ہجرت کرے جس میں وہ رہتا ہے اور وہاں کفر کا غلبہ ہو، تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ حج بھی اپنے سے پہلے کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اس لیے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیعت کی اور لوگوں میں سب سے زیادہ آپ ﷺ سے محبت کرنے والے بنے۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کے جلال کی وجہ سے آپ کو مسلسل دیکھ نہیں سکتے تھے۔ پاک ہے دلوں کو پھیرنے والی ذات! کہ کل تک وہ آپ سے سب سے زیادہ بغض کرنے والے تھے اور آپ کو قتل کرنے کے خواہش مند تھے اور اب وہ آپ کے جلال کی وجہ سے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتے، اور نہ ہی آپ کی صفات بیان کر سکتے ہیں اس لیے کہ آپ ﷺ کے خوف سے آپ کو پوری طرح دیکھا ہی نہیں، جو پوری طرح ادراک کرسکیں۔ حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ اگر میں پہلی حالت پر مرتا تو جہنمی ہوتا۔ کہتے تھے اگر میں دوسری حالت پرمرتا تو مجھے اپنے جنتی ہونے کی امید تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی احتیاط کو دیکھیے کہ فرمایا اگر پہلی حالت پر مرتا تو یقیناً جہنمی ہوتا اور اگر دوسری حالت پر مرتا تو مجھے اپنے جنتی ہونے کی امید تھی۔ یہ نہیں کہا کہ میں جنتی ہوتا۔ اس لیے کہ جنتی ہونے کی گواہی دینا بہت سخت ہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے امارت اورقیادت کے بہت سارے امورسنبھالے اورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی لڑائیوں میں کچھ واقعات پیش آئے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ معروف تھا کہ عرب کے ذہین وفطین شخص ہیں، اورفرماتے کہ: مجھے دوسری حالت کے بعد خوف ہے کہ کہیں میرے اعمال کا احاطہ نہ کیا جائے۔ پھر انہوں نے نصیحت کی کہ ان کی موت کے بعد کوئی عورت نوحہ نہ کرے۔ النائحة: وہ عورت جو میت پر نوحہ کرتی ہے اور اس پر نوحہ خواں کبوتر کی طرح خوب روتی ہے۔ اور حکم دیا کہ انہیں دفن کرنے کے بعد اتنی مقدار قبر پر رُکے رہنا جتنی مقدار میں اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکے، تاکہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے آجائیں جو مُردے کو دفنانے کے بعد آتے ہیں۔ مُردے کو دفنانے کے بعد دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے تین سوال کرتے ہیں؛ تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنے اہلِ خانہ کو اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کرنے کی مقدار ٹھہرنے کا حکم فرمایا تاکہ وہ ان کی وجہ سے مانوس رہے۔ یہ اس بات پر دلالت ہے کہ مُردہ قبر میں اپنے گھر والوں کو محسوس کرتا ہے۔ آپ ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ لوگ جب مُردے کو دفنا کر واپس لوٹتے ہیں تو مُردہ لوگوں کے قدموں کی آہٹ سنتا ہے۔ آپ ﷺ سے حسن درجے کی حدیث میں یہ منقول ہے کہ مُردے کو دفنانے کےبعد قبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ ’’اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی مانگو کیونکہ اب اس سے سوال کیا جائے گا‘‘۔ لہٰذا میت کو دفنانے کے بعد اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تین دفعہ اللهم ثبته اورتین دفعہ اللهم اغفر له کہے۔ کیونکہ آپ ﷺ جب سلام کرتے تو تین دفعہ کرتے اور جب دعا کرتے تو بھی تین دفعہ کرتے۔ خلاصہ یہ کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے آپ کو جنت کی خوشخبری سنائی ہے۔ یہ خیر کی بشارت اور مبارک باد ہے۔