عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے ولید کو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کی نصیحت کر رہے ہیں اور تقدیر پر ایمان لانے سے دنیا و آخرت میں جو پاکیزہ پھل اور اچھے نتائج ملتے ہیں اور تقدیر کے انکار پر جو دنیا و آخرت کی برائیاں اورآفات جنم لیتی ہیں ان کی وضاحت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کو بطور دلیل پیش کر رہے ہیں جس کے مطابق اللہ تعالی نے مخلوقات کے وجود میں آنے سے پہلے ہی تقدیر متعین کر دی ہے اور قلم کو اس کے لکھنے کا حکم فرما دیا ہے۔ چنانچہ قیامت آنے تک اس کائنات میں جو کچھ بھی وقوع پذیر ہو گا وہ قضاء و قدر کے مطابق ہی ہوگا۔