اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چار باتوں سے منع کیا ہے : 1- عورت کو دو دن کی مسافت اپنے شوہر یا کسی محرم کے بغیر اکیلے طے کرنے سے منع کیا ہے۔ محرم سے مراد بیٹا، باپ، بھتیجا، بھانجا، چچا اور ماموں وغیرہ ایسے لوگ ہيں، جن سے ہمیشہ کے لیے شادی حرام ہے۔ 2۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت۔ روزہ نذز کا ہو یا نفلی ہو یا کفارے کا۔ 3- عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک نفل نماز پڑھنے کی ممانعت۔ 4- حدیث میں ذکر شدہ تین مسجدوں کو چھوڑ کر کسی اور سرزمین کا سفر کرنے، اس کی فضیلت کا عقیدہ رکھنے اور وہاں زیادہ ثواب ملنے کا عقیدہ رکھنے کی ممانعت۔ ان تین مسجدوں کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ کا سفر، وہاں نماز پڑھنے کے ارادے سے نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ ان تین مسجدوں، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے علاوہ کسی اور جگہ میں نماز پڑھنے سے نماز کے ثواب میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔