عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لا ھجرۃ ۔ یعنی مکے سے مدینے کی طرف اب ہجرت فرض نہیں؛ کیوں کہ اب یہ اسلامی علاقہ بن چکا ہے۔ تاہم جہاد کی فرضیت ہنوز باقی ہے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ جس سے جہاد پر جانے کے لیے کہا جائے، وہ اللہ، اس کے رسول اور حکمران کی اطاعت میں جہاد کے لیے نکل کھڑا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ کی حرمت بیان کی اور فرمایا کہ جب سے اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کی ہے، تب سے یہ حرمت والا ہے اور یہ کہ نبی ﷺ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ آپ ﷺ کے لیے صرف دن کے کچھ وقت کے لیے حلال ہوا تھا، بعدازاں اس کی حرمت لوٹ آئی۔ آپ ﷺ نے مکے کی حرمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ تو حرم میں موجود کوئی کانٹا اکھاڑا جائے گا، نہ اس میں موجود شکار کے جانوروں کو بھگایا جائے گا اور نہ ہی اس میں کسی گری پڑی چیز کو اٹھانا کسی کے لئے جائز ہے؛ سوائے اس شخص کے جو لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے اسے اٹھائے (تا کہ اسے اس کے مالک تک پہنچا سکے) اور نہ ہی اس میں موجود چارہ اور سبز گھاس وغیرہ کاٹی جائے۔ تاہم اہل مکہ کی مصلحت کے پیش نظر آپ ﷺ نے اس حکم سے اذخر گھاس کو مستثنی کر دیا۔ کیوں کہ لوہار اپنے کام کی خاطر آگ جلانے کے لیے اس کا استعمال کرتے تھے۔