ابوہریرہ رضی اللہ خبر دے رہے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو خزاعہ قبلیہ کے ایک آدمی نے قبیلہ ہذیل کے ایک آدمی کو جاہلیت میں قتل ہونے والے ایک شخص کے بدلے میں قتل کردیا ۔ اس پر نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن کا حدیث میں ذکر ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے مکہ کی حرمت بیان کی اور وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالی نے مکہ کو ہاتھی والوں کی دسترس سے دور رکھا اور اسے اپنے نبی کے لیے دن کی صرف ایک مختصر سی گھڑی کے لیے مباح کیا۔ یہاں گھڑی سے مراد کوئی معین گھڑی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد فتح مکہ کے دن کا کوئی تھوڑا سا وقت ہے کیونکہ اس دن صبح سے لے کر عصر کے وقت تک نبی ﷺ کے لیے مکہ کو مباح کر دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت کے بعد اس کی حرمت پھر سے ویسے ہی لوٹ آئی ہے جیسے وہ پہلے تھی بایں طور کہ اب نہ تو اس کا کوئی کانٹا ہی اکھاڑا جائے گا اور نہ اس کی گھاس کاٹی جائے گی یعنی نہ تو اس کا کوئی درخت اور نہ ہی حدود حرم میں اگی ہوئی گھاس کاٹی جائے گی ماسوا اذخر کے اور نہ ہی گری پڑی شے کو اٹھایا جائے گا سوائے اس شخص کے لیے جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔