اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب ایک مسلمان جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے، تو اس کی وہ نماز اس کی گھر یا بازار میں پڑھی ہوئی نماز سے تیئیس گنا سے زیادہ افضل شمار ہوتی ہے۔ پھر آپ نے اس کا سبب بیان فرمایا۔ آپ نے بتایا کہ جب انسان وضو کرتا ہے اور وضو مکمل طریقے سے اور اچھی طرح کرتا ہے، پھر مسجد کی جانب چل پڑتا ہے اور مقصد نماز کی ادائیگی کے علاوہ کچھ نہيں ہوتا، تو اس کے بدلے میں اس کا مقام ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ پھر جب مسجد میں داخل ہوتا ہے اور نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے، تو انتظار کے دوران اسے نماز کا اجر و ثواب ملتا رہتا ہے۔ ساتھ ہی فرشتے اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہتے ہیں، جب تک اس جگہ بیٹھا رہتا ہے، جہاں نماز پڑھی ہے۔ فرشتے کہتے ہیں: "اے اللہ! اسے بخش دے۔ اے اللہ اس پر رحم فرما۔ اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔" جب تک کہ اس کا وضو نہیں ٹوٹ جاتا‘ یا اس سے ایسی کوئی حرکت نہ سرزد ہوجاتی جس سے لوگوں کو یا فرشتوں کو تکلیف پہنچے۔