اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ آدمی کی باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے پچیس درجے زیادہ افضل ہے۔ پھر اس بات کا ذکر کیا کہ دن اور رات کے فرشتے نماز فجر میں جمع ہوتے ہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بطور استشہاد اس بات کو بیان کیا کہ اگر تم چاہو تو یہ پڑھ کر دیکھو ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ ”بے شک فجر کا قرآن( پڑھنا، فرشتوں کے) حاضر ہونے کا باعث ہے“ یعنی نماز فجر میں دن اور رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اور اس (فجر) کا نام ’قرآن‘ اس لیے رکھا گیا ہے کہ دیگر نمازوں کی بہ نسبت اس میں قرآن کی تلاوت زیادہ لمبی کی جاتی ہے۔ اس کی لمبی قرأت کی فضیلت کی وجہ ہی سے اللہ تعالیٰ اور دن رات کے فرشتے موجود ہوتے ہیں۔