ایک نابینا شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جو میری مدد کرے اور پانچ وقت کی فرض نمازوں کے لیے ہاتھ پکڑ کر مجھے مسجد لے آیا کرے۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ آپ اسے جماعت میں شامل نہ ہونے کی اجازت دے دیں۔ آپ نے اجازت دے بھی دی۔ لیکن جب وہ جانے لگا، تو اسے بلایا اور پوچھا کہ کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟ جب انھوں نے ہاں میں جواب دیا، تو فرمایا : نماز کی ندا لگانے والے کی ندا قبول کرو۔