اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ نے اسلام کی مثال ایک ایسے سیدھے راستے سے دی ہے، جس میں کوئی کجی نہ ہو۔ اس راستے کے دونوں کناروں پر دو دیواریں ہیں جو اسے دو طرف سے گھیری ہوئی ہیں۔ اس سے مراد اللہ کی حدود و احکام ہیں۔ ان دونوں دیواروں کے درمیان کچھ کھلے ہوئے دروازے یعنی اللہ کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں۔ ان دروازوں پر پردے لگے ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے گزرنے والا دروازے کے اس پار رہنے والے کو دیکھ نہیں پاتا۔ راستے کے آغاز میں ایک داعی ہے، جو لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہے اور انہیں کہہ رہا ہے کہ اس راستے پر چل پڑو اور دائیں بائیں نہ جھانکو۔ یہ داعی اللہ کی کتاب ہے۔ ایک دوسرا داعی بھی ہے، جو راستے کے اوپر سے پکارتا ہے۔ جب بھی گزرنے والا ان دروازوں پر لٹکے پردے کو تھوڑا بھى اٹھانا چاہتا ہے، تو یہ داعی اسے ڈانٹتا ہے اور کہتا ہے کہ تیری بربادی ہو، اسے مت کھولو! کیوں کہ اگر تم نے اسے کھول دیا تو تم اس میں داخل ہوجاؤگے اور اپنے آپ کو داخل ہونے سے نہیں روک سکوگے۔ یہ داعی اللہ تعالی کی جاننب وہ نصیحت کرنے والا ہے، جو ہر مسلمان کے دل میں موجود ہے۔