ایک شخص ایک صحابی کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جو منبر بنوایا تھا، وہ کس لکڑی کا تھا؟ دراصل ان کے بیچ اس سلسلے میں بحث ہو گئی تھی۔ چنانچہ اس صحابی نے بتایا کہ آپ نے ایک انصاری عورت کو، جس کے پاس ایک بڑھئی غلام تھا، کہلا بھیجا کہ اپنے غلام سے کہو کہ میرے لیے ایک منبر بنا دے، جس پر بیٹھ کر میں لوگوں سے بات کر سکوں۔ چنانچہ اس عورت نے آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے غلام کو آپ کے لیے جھاؤ درخت کی لکڑی کا ایک منبر بنانے کا حکم دیا۔ جب منبر بن کر تیار ہو گیا، تو اس عورت نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیج دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اسے مسجد کے اندر اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔ تکبیر اسی پر کھڑے ہوکر کہی، پھر رکوع اسی پر کھڑے ہوکر کیا، پھر منبر سے اتر کر چہرہ گھمائے بغیر کچھ پیجھے ہٹے، منبر کے پاس سجدہ کیا اور پھر منبر پر آ گئے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا، تاکہ تم میرا اتباع کر سکو اور میری نماز سیکھ سکو۔