ایک بار اللہ کے نبی صلی اللہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو غیر حاضر دیکھا اور ان کے بارے میں پوچھا، تو ایک شخص نے بتایا کہ میں جاکر پتہ لگاتا ہوں اور آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ غائب کیوں ہیں؟ چنانچہ وہ شخص ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا، تو دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں اداس ہوکر سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ اس شخص نے جب حال پوچھا، تو انھوں نے وہ کرب بتایا، جس سے وہ گزر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی آواز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سے اونچی ہو جایا کرتی تھی اور اللہ نے ایسا کرنے والے کو یہ دھمکی دی ہے کہ اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ چنانچہ وہ شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ دیکھا اور سنا تھا، سب کچھ بتا دیا، تو آپ نے حکم دیا کہ وہ دوبارہ ثابت بن قیس کے پاس جائیں اور ان کو یہ خوش خبری دیں کہ وہ جہنمی نہيں، بلکہ جنتی ہیں۔ ایسا اس لیے کہ ان کی آواز پیدائشی طور پر اونچی تھی اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور انصار کے خطیب تھے۔