عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہوئی ہر بات کو لکھ لیا کرتا تھا، تاکہ اسے تحریری شکل میں محفوظ رکھا جا سکے۔ لیکن قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ایک انسان ہیں اور غصہ اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ غلطی بھی کر بیٹھیں۔ (اس لیے آپ کی ہر بات کو لکھا مت کرو۔) چنانچہ میں نے لکھنا بند کر دیا۔ پھر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ان کی اس بات کا ذکر کیا، تو آپ نے اپنے دہن مبارک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تم لکھا کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے ہر حال میں حق ہی نکلتا ہے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غصے کی حالت میں بھی۔ اللہ تعالی نے بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں فرمایا: {وَمَا یَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰۤ۔ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡیࣱ یُوحَىٰ} (اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں. وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے.) [سورہ نجم : 3-4]