اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا اور جب لوگ ایسا ہوتا ہوا دیکھ لیں گے، تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت کافر کو ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا اور نہ عمل صالح اور توبہ ہی کچھ کام دے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا کہ قیامت اچانک قائم ہوگی۔ ہوگا یہ کہ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ چنانچہ قیامت اس طرح آ جائے گی کہ خرید وفروخت کرنے والے دو لوگ اپنے درمیان دیکھنے دکھانے کے لیے کپڑا پھیلا چکے ہوں گے، لیکن نہ تو خرید و فروخت کر پائیں گے اور نہ ہی اسے لپیٹ سکیں گے۔ قیامت اس طرح آ جائے گی کہ انسان اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آچکا ہوگا، لیکن اسے پی نہ سکے گا۔ قیامت اس طرح قائم ہوجائے گی کہ انسان اپنا حوض درست اور تیارکر رہا ہوگا، لیکن اس سے پانی نہیں پی سکے گا۔ قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ انسان اپنا لقمہ منہ تک اٹھا چکا ہوگا، لیکن کھا نہیں سکے گا۔