ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے غلاموں کی نازیبا حرکتوں کی شکایت کرنے لگا کہ اس کے غلام بات کرتے وقت اس سے جھوٹ بولتے ہیں، امانت میں اس کی خیانت کرتے ہیں، معاملات میں اس کے ساتھ فریب کرتے ہیں اور اس کا حکم نہیں مانتے۔ جب کہ ان کو راہ راست پر لانے اور ان کی سرزنش کرنے کے لیے انہیں گالی دیتا اور مارتا پیٹتا ہے۔ اس شخص نے آپ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن ان غلاموں کے ساتھ اس کی کیا حالت ہوگی؟ تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: انہوں نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تمہاری نافرمانی کی ہے اور تم سے جو جھوٹ بولا ہے، لہذا ان سب کا شمار و حساب ہو گا اور تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا۔ اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں، تو نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر۔ جب کہ ا گر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی، تو یہ تمھارے اجر و ثواب میں اضافے کا باعث بنے گا۔ لیکن اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی، تو تجھ سے قدر زائد لے کر ان کو دے دیا جائے گا۔ (یہ سن کر) وہ شخص زور زور سے رونے لگا۔ اس کی یہ حالت دیکھ آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے؟ (اللہ نے فرمایا ہے ): {قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا، تو ہم اسے لا حاضر کریں گے اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔" [الأنبياء: 47] یہ سن کر اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں پاتا کہ میں ان سے جدا ہو جاؤں اور انہیں چھوڑ دوں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہیں، فقط اس لیے کہ حساب وکتاب اور عذاب سے محفوظ رہ سکوں۔