اس اثر سے یہ معلوم ہوا کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بارے میں یہ بتایا ہے کہ وہ پہلے شخص ہوں گے، جو قیامت کے دن اللہ رب العالمین کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھیں گے۔ ساتھ ہی یہ کہ آیت کریمہ {هذان خصمان اختصموا في ربهم} ان کے نیز حمزہ اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب وہ غزوۂ بدر کے موقعے پر کفر کے سرغنوں یعنی شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ سے مقابلے کے لیے سامنے آئے تھے۔ یہ اثر مبارزت یعنی معرکہ شروع ہونے سے پہلے دو لوگوں کے بیچ تلوار کی جنگ کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔