اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! اللہ نے تم سے جاہلی دور کے کبر و نخوت اور آبا و اجداد پر فخر کرنے کے طور طریقے کو دور کر دیا ہے۔ اب لوگ دو طرح کے ہیں : یا تو نیکوکار، پرہیزگار، فرماں بردار اور اللہ عز و جل کی عبادت کرنے والا مؤمن ہے، جو کہ اللہ تعالی کی نظر میں قابل احترام ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا نہ بھی ہو۔ یا پھر بدکار اور بدبخت کافر ہے، جو کہ اللہ کی نظر میں بے وقعت ہے اور اس کی کوئی قیمت نہيں ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا اور عہدے اور منصب والا ہی کیوں نہ ہو۔ سارے کے سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے مٹی سے پیدا ہونے والے انسان کو تکبر اور خود پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی تائید اللہ تعالی کے اس فرمان سے ہوتی ہے: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]