اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوت کی تفسیر بیان کی ہے، جسے دشمنوں اور کافروں کے مقابلے کی خاطر تیار رکھنے کا حکم دیا گيا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس قوت سے مراد تیر اندازی ہے، کیونکہ یہ دشمن پر زیادہ کاری ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے خطرے سے کہیں زیادہ محفوظ بھی رکھتی ہے۔ حدیث میں "الرمي" یعنی پھینکنے اور چلانے کا لفظ آیا ہے اور جس وقت یہ آیت اتری تھی، اس وقت میدان جنگ میں تیر چلائے جاتے تھے۔ لیکن اس آیت کا اعجاز دیکھیے کہ اس میں مطلق قوت کا لفظ آيا ہے، تاکہ زمان و مکان کی قیود سے ماورا ساری قوتیں اس میں شامل ہو جائیں۔ اسی طرح حدیث کا بھی علمی اعجاز دیکھیے کہ اس میں مطلق "الرمي" یعنی پھینکنے اور چلانے کا لفظ آیا ہے، جس میں پھینکنے اور چلانے کی ساری شکلیں شامل ہیں، چاہے وہ نئی سے نئی ہی کیوں نہ ہوں اور جدید سے جدید ہتھیاروں کے ذریعے ہی کیوں نہ ہوں۔