کسی نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ عثمان بن عفان کے پاس جاکر ان سے لوگوں کے درمیان رو نما ہونے والے فتنے کے بارے میں بات کیوں نہيں کرتے اور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کیوں نہيں کرتے؟ جواب میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے ان سے بات تو کی ہے، لیکن رازداری کے ساتھ۔ تاکہ مصلحت حاصل ہو جائے اور کوئی فتنہ سر نہ اٹھائے۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ وہ لوگوں کے سامنے کھل کر امراء کی نکیر نہیں کرنا چاہتے، تاکہ خلیفہ کے خلاف زبان درازی کی نوبت نہ آئے۔ کیوں کہ اس سے فتنے اور برائی کا دروازہ کھلے گا اور وہ نہيں چاہتے کہ یہ دروازہ سب سے پہلے ان کے ہاتھ سے کھلے۔ اس کے بعد اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ امرا کو تنہائی میں نصیحت کرتے ہيں اور کسی کی چاپلوسی نہيں کرتے کہ منہ پر ان کی غلط تعریف کریں۔ چاہے امیر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ طرز عمل انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث سننے کے بعد اختیار کیا کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جہنم کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ گرنے کے ساتھ ہی اس کے پیٹ سے انتڑیاں نکل کر باہر آجائيں گی۔ ایسے میں وہ شخص اپنی انتڑیوں کے ساتھ ایسے چاروں طرف گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں طرف گھومتا ہے۔ یہ منظر دیکھ جہنمی اس کے اردگرد حلقہ بناکر جمع ہو جائيں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ اے فلاں! کیا تم ہمیں بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکا نہيں کرتے تھے؟ وہ جواب دے گا: یہ سچ ہے کہ میں تمھیں بھلائی کا حکم دیتا تھا، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ میں برائی سے روکتا تھا، لیکن خود اس میں ملوث ہو جایا کرتا تھا۔