ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمھاری دنیا کی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں (70) حصہ ہے۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول اللہ ﷺ! یہ دنیا کی آگ ہی کافی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’وہ آگ اس پر انہتر (69) حصے زیادہ کردی گئی ہے اور اس کا ہر حصہ دنیا کی آگ کے برابر گرم ہے۔‘‘ صحيح - متفق عليه
explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصے میں سے صرف ایک حصہ ہے۔ آخرت کی آگ کے اندر جو قوت حرارت ہوگی، وہ دنیا کی آگ کی حرارت سے انہتر حصہ زیادہ ہوگی۔ ان میں سے ہر حصہ حرارات میں دنیا کی آگ کی طرح ہوگا۔ دریافت کیا گیا: اے اللہ کے رسول! دنیا کی آگ ہی اس میں جانے والوں کو عذاب دینے کے لیے کافی تھی! آپ نے فرمایا: جہنم کی آگ دنیا کی آگ پر انہتر حصے زیادہ کردی گئی ہے. ان میں سے ہر حصہ دنیاوی آگ کی طرح شدید حرارت والا ہوگا۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • جہنم سے ڈرایا گیا ہے، تاکہ لوگ جہنم میں لے جانے والے اعمال سے دور رہیں۔
  • جہنم کی آگ بہت شدید، اس کا عذاب بہت سخت اور اس کی حرارت بہت زیادہ ہوگی۔