حدیث میں جنت کی کشادگی اور اس میں موجود عظیم نعمتوں کا ذکر ہے بایں طور کہ اس میں جنت کے درختوں اور ان کے سائیوں کا بیان ہے کہ ایک تیر رفتار گھوڑ سوار ان کی کشادگی کی وجہ سے کبھی ان کی انتہاء تک نہیں پہنچ سکے گا۔ یہ بہت بڑا فضل و عنایت ہے جو اللہ نے اپنے متقی بندوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔