اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اللہ تعالی نے جب جنت و جہنم کو پیدا کیا تو جبریل علیہ السلام سے فرمایا: جاؤ جنت کو دیکھو۔ چنانچہ وہ گئے اور دیکھ کر واپس آئے۔ جبریل نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم! جو شخص بھی جنت کے بارے میں اور اس میں موجود نعمتوں اور آسائشوں کے بارے میں سنے گا، ضرور اس میں داخل ہونا چاہے گا اور اس کی خاطر عمل کرے گا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے جنت کو نا گوار اور مشکل چیزوں سے گھیر دیا۔ یعنی جنت کے ارد گرد اوامر کی بجا آوری اور نواہی سے اجتناب کا حصار لگا دیا۔ چنانچہ جو شخص اس میں داخل ہونا چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری کر دیا کہ وہ ان ناگواریوں سے گزر کر آئے۔ پھر اللہ عز وجل نے فرمایا: اے جبریل! اب جاؤ اور جنت کو دیکھو۔ چنانچہ حضرت جبریل گئے اور جنت کو دیکھا اور آکر عرض کیا: اے میرے ربر! تیری عزت کی قسم! مجھے خوف ہے کہ جنت کی راہ میں جو صعوبتیں اور مشقتیں ہیں، ان کی وجہ سے کوئی اس میں داخل نہ ہوسکے گا۔ اسی طرح جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبریل! جاؤ جہنم کو دیکھ کر آؤ۔ چنانچہ وہ گئے اور جہنم کا معاینہ کیا، پھر لوٹ کر آئے اور عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! اس میں جو عذاب، پریشانیاں اور مشقتیں ہیں، ان کے بارے میں جو بھی سنے گا، وہ اس میں جانا ناپسند کرے گا اور اس کے اسباب سے بھی دور رہے گا۔ چنانچہ اللہ عز وجل نے جہنم کو مرغوب اور لذت آمیز چیزوں سے گھیر دیا اور پھر فرمایا: اے جبریل! جاؤ اور جہنم کو دیکھ کر آؤ۔ چناں چہ حضرت جبریل گئے اور دیکھ کر واپس آئے، تو عرض کیا: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم، مجھے خدشہ ہے کہ اس سے شاید ہی کوئی شخص بچ پائے گا، کیوں کہ اس کے ارد گرد مرغوب اور لذت آمیز چیزوں کا حصار لگا ہوا ہے۔