اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہيں کہ جب دو مسلمان اپنے اپنے ہاتھ میں تلوار لے کر ایک دوسرے کے مد مقابل آ جائیں اور دونوں ایک دوسرے کی جان لینے پر آمادہ ہوں، تو قاتل اپنے بھائی کا قتل کرنے کی وجہ سے جہنمی ہوگا۔ صحابہ کو حدیث میں کہی گئی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ مقتول کیوں جہنم میں جائے گا؟ چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ وہ جہنمی اس لیے ہوگا کہ وہ بھی اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ تھا اور وہ اپنے ارادے میں کام یاب اس لیے نہيں ہو سکا کہ اس کا مد مقابل اپنے ارادے میں کام یاب ہو گیا اور اس پر سبقت لے گیا۔