اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر اس بات کی دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ آپ کو دین و طاعت گزاری پر ثابت قدم اور گمراہی و کج روی سے دور رکھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا اتنی زیادہ کیوں کرتے ہيں؟ لہذا آپ نے ان کو بتا دیا کہ انسان کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ وہ ان کو جیسے چاہتا ہے، پلٹتا رہتا ہے۔ قلب ایمان اور کفر کا بسیرا ہے۔ قلب کو قلب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ الٹ پھیر کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ قلب ہانڈی میں موجود اس پانی سے بھی زیادہ الٹ پھیر کا شکار رہتاہے، جو تیز آنچ کی وجہ سے جوش مار رہا ہو۔ ایسے ميں اللہ جس شخص کے دل کو چاہتا ہے، ہدایت پر قائم اور دین پر ثابت رکھتا ہے۔ اس کے برخلاف جس کے دل کو چاہتا ہے، گمراہی کی طرف پھیر دیتا ہے۔