مسلمان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں ہر چھوٹے بڑے شخص کی جانب سے ایک ایک صاع کھانے کی چيز نکالا کرتے تھے۔ اور ان دنوں ان کے کھانے کی چيزیں یہ تھیں: جَو، کشمش ، پنیر اور کھجور۔ یہاں یہ یاد رہے کہ صاع چار مد کا ہوتا ہے اور ایک مد ایک معتدل قد وقامت والے شخص کے ایک لپ کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن حب معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ کی حیثیت سے مدینہ آئے اور شامی گیہوں کى کثرت ہوگئى، تو انھوں نے خطبہ دیا اور فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ شام کی دو مد (نصف صاع) گیہوں ایک صاع کھجور کے برابر ہے۔ چنانچہ لوگوں نے ان کے اس قول پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ لیکن ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہاں تک میری بات ہے تو میں زندگی بھر زکاۃ فطر اسی طرح نکالتا رہوں گا، جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں نکالا کرتا تھا۔