اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ خود اپنے نفس کو اور دوسروں کو کسی بھی طرح کا ضرر پہنچانے سے بچنا ضروری ہے۔ نہ تو خود کو اذیت دینا جائز ہے اور نہ کسی اور کو اذیت دینا جائز ہے۔ دونوں ہی باتیں ناجائز ہيں۔ کسی کے لیے بھی ضرر کے مقابلے میں ضرر پہنچانا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ ضرر کا ازالہ ضرر کے ذریعے قصاص کے علاوہ کہیں اور جائز نہيں ہے، اور یہ بھی اس وقت جائز ہے جب ظلم وتعدی نہ ہو۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ جو شخص لوگوں کو نقصان پہنچائے گا، اسے خود نقصان کا شکار ہونا پڑے گا اور جو شخص لوگوں کو مشقت میں ڈالے گا، اسے خود مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔