اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب نمازی کے پیٹ میں کوئی چیز ادھر سے ادھر آئے جائے اور اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو کہ پیٹ سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو نماز توڑ کر دوبارہ وضو کرنے کے لیے اس وقت تک باہر نہ نکلے، جب تک اسے یقین نہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹ ہی گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ ریح خارج ہونے کی آواز سن لے یا اس کی بدبو محسوس ہونے لگے۔ کیوں کہ یقین شک کی بنیاد پر زائل نہيں ہوتا اور یہاں طہارت کا ہونا ایک یقینی امر ہے، جب کہ وضو ٹوٹا ہے یا نہیں، اس بات میں شک ہے۔