عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ پر زنا کی حد نافذ کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : اس گندے کام اور اس طرح کے دیگر گندے کاموں سے بچو۔ لیکن اگر کسی سے اس طرح کا کوئی کام سرزد ہو جائے، تو اس پر دو چیزیں واجب ہيں : 1- چوں کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال رکھا ہے، اس لیے اس پردے کو ڈلا ہوا رہنے دے اور کسی کو نہ بتائے۔ 2- فوراً توبہ کر لے اورگناہ پر مصر نہ رہے۔ کیوں کہ جس کا گناہ ہمارے سامنے آ جائے گا، ہم اس پر اللہ کی کتاب میں مذکور اس گناہ کی حد نافذ کریں گے۔