نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہم سے پہلی امتوں میں سے کسی امت میں ایک آدمی تھا، جس نے ننانوے لوگوں کو قتل کر رکھا تھا۔ احساس ندامت سے مغلوب ہو کر اس نے لوگوں سے علاقے کے سب سے زیادہ علم رکھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا، تاکہ اس سے اپنے بارے میں دریافت کر سکے کہ کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اس کی رہ نمائی ایک شخص کی طرف کی گئی، جو تھا تو عابد، لیکن اس کے پاس علم نہیں تھا۔ جب اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، تو کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ راہب کو یہ گناہ بہت بڑا لگا اور وہ کہنے لگا کہ تیرے لیے کوئی توبہ نہیں ہے۔ اس پر وہ شخص غصہ میں آ گیا اور بے کلی میں اس نے راہب کو بھی قتل کر دیا اور اس طرح سو قتل پورے کر دیے۔ پھر دوبارہ اس نے علاقے کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا۔ اسے ایک عالم شخص کا پتہ بتایا گیا۔ اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے سو افراد کو قتل کیا ہے، کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اکیوں نہیں! اس کے اور توبہ کے مابین کون سی شے حائل ہو سکتی ہے؟ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ لیکن فلاں بستی میں جاؤ۔ اس میں کچھ لوگ ہیں، جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ جس علاقے میں تھا، شاید وہ دار الکفر تھا۔ واللہ اعلم۔ اس لیے اس نے اس سے کہا کہ اپنے دین کی خاطر وہ اس بستی کی طرف ہجرت کر جائے، جس میں اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ وہ شخص پشیمان و تائب ہو کر اپنے دین کی خاطر اس علاقے کی طرف ہجرت کر گیا، جس میں اللہ کی عبادت کرنے والے لوگ تھے۔ آدھا راستہ طے کیا تھا کہ اس کی موت آ گئی۔ اب اس کے بارے میں عذاب اور رحمت کے فرشتوں کے مابین اختلاف ہو گیا؛ رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے توبہ کر لی تھی اور وہ نادم و تائب ہو کر آ رہا تھا (لیکن عذاب کے فرشتے اسے اپنے ساتھ کے جانے پر مصر تھے)۔ اس طرح ان کے مابین جھگڑا ہو گیا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ایک فرشتہ بھیجا؛ تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کرے۔ اس نے کہا: دونوں جانب کی مسافت کی پیمائش کرو۔ جس علاقے سے وہ زیادہ قریب ہو، اسے اس کے باشندوں میں سے گردانا جائے گا۔ یعنی اگر وہ دار الکفر کے زیادہ قریب ہو، تو عذاب کے فرشتے اس کی روح قبض کریں گے اور اگر دار الایمان کے زیادہ قریب ہو، تو رحمت کے فرشتے اس کی روح قبض کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے ان دونوں کی مسافت کو ناپا، تو جس علاقے کی طرف وہ جا رہا تھا، یعنی دارالایمان کی جانب، وہ اس علاقے کی بہ نسبت ایک بالشت قریب نکلا، جہاں سے وہ ہجرت کر کے آ رہا تھا۔ چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح قبض کی۔