نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جب کوئی بندہ اللہ کی اطاعت اور اس کا حکم بجا لا کر اخلاصِ قلب کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ اس بندے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بے آگ وگیاہ چٹیل میدان میں ہو اور اس کے ارد گرد کوئی اور شخص نہ ہو، نہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء ہوں اور نہ لوگ اور وہاں اس کا اونٹ گم ہو جائے۔ وہ اسے تلاش کرے لیکن اسے نہ ملے اور پھر ایک درخت کے نیچے جا کر سو جائے اور موت کا انتظار کرنا شروع کر دے۔ وہ اپنے اونٹ سے اور اپنی زندگی سے ناامید ہو چکا ہو کیونکہ اس کے کھانے پینے کا سامان اس کے اونٹ پر ہی لدا تھا اور وہ گم ہو چکا ہے۔ وہ اسی حال میں ہو کہ اچانک اسے اس کا اونٹ مل جائے بایں طور کہ اس کی نکیل اس درخت کے ساتھ پھنسی ہو جس کے تلے وہ سو رہا تھا۔ اس شخص کی خوشی کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کا تصور صرف وہی کر سکتا جو خود کبھی اس قسم کی صورت حال سے گزرا چکا ہو۔ کیونکہ یہ بہت بڑی خوشی ہے۔ موت کے منہ میں جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی کی خوشی حاصل ہوئی اسی لیے اس نے نکیل پکڑ کر کہا کہ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں‘‘۔ وہ چاہتا تھا کہ اللہ کی تعریف بیان کرے اور یوں کہے: اے اللہ! تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ لیکن خوشی کی شدت کی وجہ سے وہ غلطی کر بیٹھے۔