دو لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک دوسرے کو گالی گلوج کر رہے تھے۔ ایک کی حالت تو یہ تھی کہ چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور گردن کی رگیں پھول چکی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر اس غصے والے شخص نے اسے کہہ لیا، تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ اسے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" کہہ لینا چاہیے۔ چنانچہ صحابہ نے اس سے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تجھے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" پڑھنے کے لئے کہا ہے۔ لیکن اس نے جواب دیا: کیا میں مجنوں ہوں؟ اسے لگتا تھا کہ اللہ کی پناہ وہی مانگتا ہے، جسے جنون لاحق ہو۔