اگر تم مسلمانوں کے پوشیدہ امور کی ٹوہ میں لگو گے یعنی ازراہ تجسس ان کے حالات جاننے کی کوشش کرو گے، ان کی اُن برائیوں اور عیوب کے درپے ہوگے جنہیں وہ چھپاتے ہیں اور انہیں افشاء کر دو گے تو اس طرح کر کے تم ان کی رسوائی کا سبب بنو گے اور ان کا پردہ چاک کر کے رکھ دو گے جس سے ان کی حیاء میں کمی واقع ہو گی اور یوں وہ اس طرح کے گناہوں میں اور بھی زیادہ جری ہوجائیں گے اور ان کا کھلم کھلا ارتکاب کریں گے حالانکہ اس سے پہلے وہ چھپ کر یہ گناہ کیا کرتے تھے جن کا صرف اللہ تعالی کو علم ہوتا تھا۔