یہ حدیث تکبر اور بڑائی کی مذمت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ تکبر و بڑائی انسان کی چال میں ظاہر ہوتی ہے چنانچہ وہ اتراہٹ کے ساتھ چلتا ہے۔ اسی طرح اس کا اظہار اس کے لباس، گفتگو اور تمام امور میں ہوتا ہے۔ جس شخص کے تکبر کی یہ حالت ہو وہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک بڑا آدمی ہے جو دوسروں سے زیادہ تعظیم کا مستحق ہے۔ایسا شخص روز قیامت اس حال میں اللہ سے ملے گا کہ وہ اس پر سخت غضبناک ہوگا۔