انس ابن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جو سفر پر جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ وہ آپ ﷺ سے سفر پر جانے کی اجازت لینے اور زادہِ راہ مانگنے آیا۔ آپ ﷺ نے اس کے حق میں ایسی دعا فرمائی جو اپنے نفع کے اعتبار سے زاد راہ کی طرح تھی اور وہ یہ کہ احکام کی انجام دہی اور ممنوعات سے پرہیز اس کا زادِ راہ ہو۔ دعا کی خیر و برکت کی چاہت میں اس نے اضافہ کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے اس کے اضافے کی درخواست کے جواب میں اس کی طیبِ خاطر کے لیے فرمایا: اور وہ تمہارے گناہ معاف کرے۔ دعا کی خیر و برکت کی چاہت میں اس نے دوبارہ اضافہ کے درخواست کی تو نبی ﷺ نے ایسے خوبصورت انداز میں دعا کا اختتام فرمایا جو تمام قسم کی نیکیوں اور کامیابیوں کو جامع ہے۔ آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی کہ ہر جگہ اور ہر وقت اللہ اس کے لیے دونوں جہانوں کی خیر کو آسان کر دے۔