علی بن ربیعہ (جن کا شمار کبار تابعین میں ہوتا ہے) بیان کرتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا کہ آپ کے پاس آپ کی سواری لائی گئی تاکہ آپ اس پر سوار ہوں۔ لغت کے اعتبار سے ’الدابة‘ کا اطلاق ہر اس جانور پر ہوتا ہے جو زمین پر رینگے۔ بعد ازاں عرف عام میں اسے چوپایوں کے ساتھ خاص کر دیا گیا۔ جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو کہا: ’بِسْمِ اللَّهِ‘ یعنی میں اللہ کے نام کے ساتھ سوار ہوتا ہوں۔ پھر جب اچھی طرح سے اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو فرمایا: ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ یعنی اس عظیم نعمت پر ساری تعریفین اللہ ہی کے لیے ہیں اور وہ نعمت یہ ہے کہ اس نے ایک نامانوس اوربدکنے والے جانور کو رام کر دیا اور اس پر سواری کے لیے اسے ہمارا فرماں بردار بنا دیا بایں طور کہ ہم اس کے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے ’الَّذِي سَخَّرَ‘ کے الفاظ کے ساتھ اس کی تصریح کی، یعنی اس سواری کو ہمارے قابو میں کر دیا جب کہ ہم میں اسے مسخر کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ ’وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ‘ یعنی اپنے اوپر ہونے والی نعمت پر کی جانے والی مقید حمد کے بعد فرمایا۔ ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ یعنی ایسی حمد جو کسی شے کے ساتھ مقید نہیں۔ ’ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بار بار ایسا کہنے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عظمت وجلال کی طرف اشارہ ہے اور یہ کہ بندہ اللہ کی ویسے قدردانی نہیں کرتا جیسا کہ حق ہے۔ اسے یہ حکم ہے کہ وہ حسبِ استطاعت فرماں برداری کرتا رہے۔ ’اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ‘ یہ تکرار بڑائی کے بیان میں مبالغہ کے لیے ہے۔ پھر ’سُبحانَكَ‘ کہا یعنی میں تیری مطلق پاکی بیان کرتا ہوں۔ ’إنِّي ظَلَمتُ نَفسي‘ یعنی تیرے حق کی ادائیگی نہ کر کے یا اسے اہمیت نہ دے کر اور اس میں غور نہ کر کے (میں نے اپنی جان پر ظلم کیا) کیونکہ انہیں اس نعمت عظمیٰ کی شکر گزاری میں کوتاہی دکھائی دی چاہے وہ غفلت ہی کی وجہ سے ہو۔ ’فاغفِر لي‘ یعنی میرے گناہوں کو پوشیدہ رکھ بایں طور کہ ان پر سزا دے کر مواخذہ نہ کرنا۔ ’فإنَّهُ لا يغفِرُ الذُّنوبَ إلا أنتَ‘ ان الفاظ میں اپنی کوتاہی کا اور اس بات کا اعتراف ہے کہ اللہ کی کرم نوازیاں بہت زیادہ ہیں۔ ’ثُمَّ ضَحِكَ‘ یعنی ابن ربیعہ نے کہا۔ 'الشمائل' کے ایک تصحیح شدہ نسخے میں ہے کہ میں نے پوچھا ’اے امیر المومنین! آپ کس وجہ سے مسکرائے ہیں؟‘ چونکہ بظاہر کوئی ایسی باعثِ تعجب بات نہیں تھی جس پر مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے اس لیے انہوں نے اس کا سبب دریافت کیا اور سوال پر ندا کو مقدم کیا جیسا کہ مخاطبت میں ادب کا تقاضا ہے۔ ’قَالَ: رَأَيْتُ‘ یعنی میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے بھی سوار ہوتے ہوئے ان جگہوں پر ذکر کیا تھا۔ پھر آپﷺ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے، ’اپنے بندے سے‘ یہ اضافت عزت و تکریم کے لیے ہے۔ ’میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے یعنی بغیرغفلت کے وہ پوری طرح جانتا ہے کہ میرے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔