اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی حدیث قدسی میں فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق کام کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ میرا برتاؤ ویسا ہی رہتا ہے، جیسا وہ میرے بارے میں سوچتا ہے۔ اچھا تو اچھا اور برا تو برا۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، تو میری رحمت، توفیق، تائید، ہدایت اور حمایت اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اگر وہ تنہائی میں میری تسبیح وتہلیل وغیرہ کرتا ہے اور اس طرح مجھے یاد کرتا ہے، تو میں اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ مجھ کو کسی جماعت کے درمیان یاد کرتا ہے، تو میں اسے کہیں بڑی اور مقدس جماعت کے درمیان یاد کرتا ہوں۔ جو اللہ کی جانب ایک بالشت کے برابر بڑھتا ہے، اللہ اس کی جانب ایک ہاتھ کے برابر بڑھتا ہے۔ جو اللہ کی جانب ایک ہاتھ بڑھتا ہے، اللہ اس کی جانب دو ہاتھ بڑھتا ہے۔ جو اللہ کی جانب چل کر آتا ہے، اللہ اس کی جانب دوڑ کر جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ جب بندہ اپنے رب کی جانب اس کی اطاعت گزاری اور بندگی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، تو اللہ تعالی اسے اپنے سے اور قریب کر لیتا ہے، کیوں کہ بدلہ عمل کی جنس سے ہی ملتا ہے۔ مومن کی بندگی جتنی مکمل ہوگی، اللہ اس سے اتنا ہی قریب ہوگا۔ اللہ کی نوازش اور اس کا ثواب ہر اعتبار سے بندے کے عمل اور کد وکاوش سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ سے اچھا گمان رکھے، سر گرم عمل رہے اور اس کا یہ جذبۂ عمل اللہ سے ملنے تک فزوں تر ہوتا چلا جائے۔